ZAKAT (ذکات)

2
581

The word ZAKAT comes from Arabic language which means Purification and Growth.In Islam ZAKAT means Purifies one’s self from bad evils. ZAKAT has also meaning of both ‘Nourishment’ or ‘Growth’ and ‘Purifies’ or ‘PAAK’ one’s self. ZAKAT purifies our wealth and increase our wealth.
Allah Paak said in Quran many times,
“say prayer and give ZaKAT”
It has a role in our Shariyat. Zakat balance the wealth among people in our society. In this way, amount Of wealth comes from rich people to poor people, who do not get enough food to eat, adequate water and clothes and necessary needs of life. Muslims spend their wealth in way of Allah, for his agreement. The person who has wealth and does not pay ZAKAT, he will be regarded as a great sinner in the sight of Allah and he will be severely punished on the day of Judgement. Zakat is an obligatory form of “charity” which is mandatory on every Muslim individual, irrespective of his gender.

لفظ ذکات کے معنی ہے پاک کرنا یا بڑھانا، ذکات اسلام کا ایک اہم اصول ہے – یہ بات یاد رکھیں کہ ہر چیز الله کی ملکیت ہے اور مال  جو انسانوں کے پاس ہے وہ الله کے نام سے وقف ہے کوئی بھی شخص جس کے پاس دولت ہے اور وہ ذکات  ادا نہیں کرتا  وہ الله کی نظر میں بڑھا گنہگار ہوتا ہے اور روز جزا میں اس کو سخت سزا دی جاۓگی – ذکات ہر مومن پر فرض ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت ذکات کی فرضیت قران پاک سے ثابت ہوتی ہے

Allah Almighty Ordained about ZAKAT in the Quran,

Surah No. 2, Al Baqr,  Ayat No. 267-268
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ

وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُو

الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ o أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ

o يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

Translation :

O believers ! Give from the good things which you have earned, and also give from what we have produced for you from the earth. And do not aim to give the bad things to others, which you yourselves would not like to receive, except with closed eyes. And know that Allah is self sufficient and Worthy of all praise.

The Shaitan threatens you of poverty and promote you to do the shameful deeds, but Allah promises you of His forgiveness and Bounties and Allah care for all and He knows all things.

اے ایمان والوں تم نے جو مال کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصّہ الله کی راہ میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری چیز چھانٹنے لگو حالانکہ  وہی چیز کوئی تمہےکوئی دے تو تم ہرگز اسے لینا گوارہ نہ کروگے البتہ آنکھ بند کرکے لے لو تو اور بات ہے جان لو کہ الله بے نیاز ہے اور بہترین صفات کا مالک ہے شیطان تمہےمفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طریقے کی ترغیب دیتا ہے مگر الله تمہے اپنی بخشش اور فضل کی یاد دلاتا ہے الله بڑھا فراخ دست اور دانا ہے

Surah No. 2, Al Baqr, Ayat No. 262

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ

o أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

Translation :

Those who spend their wealth in the cause of Allah and do not give reminders of their gifts or generosity nor wish to hurt the feelings (of others), for them, the reward is with their Lord; there shall be no fear for them, and they shall not grieve.

اور جو لوگ اپنا مال اور دولت الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے احسان نہیں  جتاتے اور نہ دکھ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور وہ  رنج اور خوف نہ کریں

Surah No. 9, Al Taubah, Ayats No. 34 & 35

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ

وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ

o اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَـذَا

o كَنَزْتُمْ لأَنفُسِكُمْ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ

Translation :
O’Believers! there are many priests (Persons who perform religious ceremonies) and monks (Religious person who do not marry), who defraud the men of their wealth and deviate them from the path of Allah. And there are those who hoard gold and silver and do not spend it in the cause of Allah: Announce to them a most grievous penalty, On the Day when their (gold and silver) will be heated up in the fire of Hell, and with it their foreheads, their shoulders and their backs branded (stamped) with them, then they will be reminded “This is the (treasure) which you hoarded for yourselves: taste them of what you were hoarding!”

اے ایمان والوں ان اہلےکتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں الله کی راہ سے روکتے ہیں درد ناک سزا کی خوشخبری دو انکو جو سونے اور چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ایک دن  ایگا  کہ اسی سونے اور چاندی پر جہنّم کی آگ دہکایگی جاۓ گی پھر اسی سے انکی پیشانیوں ، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جایگا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا –لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو

Surah No. 17, Al Isra, Ayat No. 26

وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

Translation :

“And give to the near of kin his due and (to) the needy and the wayfarer, and do not spend lavishly or wastefully.”

رشتے داروں کا حق دو  اور مسکینوں اور مسافروں کا بھی حق دو

Surah No. 2, Al Baqr, Ayat No. 271

تُبْدُواْ الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاء فَهُوَ خَيْرٌ لُّكُمْ وَيُكَفِّرُ

o عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

Translation :

“If you give alms (Zakat or Sadaqa) openly, it is well, and if you hide it and give it to the poor, it is better for you; this will remove some of your sins and Allah Knows what you do.”

” اگر تم سب کو دکھا  کر ذکات دو تو یہ اچھا ہے اور اگر چھپا کر کسی غریب کو دو تو یہ تمھارے  لئے  اور بھی اچھا ہے یہ تمھاری برائیوں کو چھپا دیتا ہے اور تم جو کرتے ہو الله کو اسکی پوری خبر ہے ”
Surah No. 3, Al Imran, Ayat No. 180

وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا

o تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

Translation :

Those people who are well off but act as misers, they think that it is better for them. No! it is worse for them. The wealth which they hoard, will be tied around their neck on the Day of Judgment. To Allah belongs the heritage of the heavens and the earth, and Allah knows what you do.

جن لوگوں کو الله نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور وہ بخل سے کام لیتے ہیں اس خیال میں نہ رہیں کہ بخیلی ان کے لئے اچھی ہے ، نہیں ، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے جو کچھ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہیں ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جایگا زمین اور
آسمانوں کی میراث الله ہی کے لئے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله کو اس کی خبر ہے

Surah No. 9, Al Taubah, Ayat No. 60

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ

o وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

Translation :

“The alms (zakat) are only for the Fuqara’ (the poor), and Masaakeen (the needy) and those employed to collect (the funds) and for those whose hearts attracts and inclined (towards Islam) and to free the captives; and for those in debt; and for Allah’s Cause and for the wayfarer (a traveller who is cut off from everything), a duty imposed by Allah. And Allah is All-Knower, All-Wise.”

ذکات صرف غریبوں کے لئے ، ضرورت مندوں کے لئے، جو لوگ چندہ جمع کرتے ہیں انکے لئے ، اور ایسے لوگ جنہوں نے مذہب اسلام قبول کیا ہو ان کے لئے ، غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے، جو لوگ قرضدار ہیں ان کے لئے ،ایک ایسا مسافر جسکا قطعہ تعلّق ہو چکا ہو اس کے لئے -یہ الله کی طرف سے فرض ہے اور الله دانا اور دانشمند ہے

We see from the life of Our Messenger, Hazrat Muhammad (S.A.W), the importance of ZAKAT, as He (S.A.W) forced on ZAKAT.

احادیث
حضرت ابو ہریرہ (رضی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا الله نے جس کسی کو دولت دی ہے اور وہ ذکات نہ دے تو قیامت کے روز اسکے مال کو ایک گنجا  زہریلا سانپ بنایا جایگا جس کی آنکھو پر دو کالے نشان ہونگے . یہ سانپ اسکے گلے میں لپٹا ہوگا اور اسکے گالوں کو کاٹتا ہوگا اور کہے گا کہ تیرا مال ہوں اور میں تیرا خزانہ ہوں

(جلد نمبر ٢، کتاب نمبر ٢٤، حدیث نمبر ٤٨٦ ، صحیح بخاری)

حضرت ابو ہریرہ (رضی) سے روایت ہے کے نبی اکرم (ص) نے فرمایا روزانہ دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور ایک کہتا ہے یا الله اس بندے کو نوازدے جو تیرے لئے مال خرچ کرتا ہے اور دوسرا کہتا ہے ہر  اس بندے کو تباہ کر جو کنجوسی کرتا ہے

جلد نمبر ٢، کتاب  نمبر ٢٤، حدیث نمبر ٥٢٢ ،صحیح بخاری اور کتاب نمبر ٥، حدیث نمبر ٢٢٠٥ صحیح مسل

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.